1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

نزلہ اور زکام کے وائرس کی زندگی

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏6 جنوری 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,031
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    نزلہ اور زکام کے وائرس کی زندگی
    upload_2020-1-6_3-33-0.jpeg
    رضوان عطا
    دسمبر کے آخری دنوں میں شروع ہونے والی سخت سردی نے کم و بیش پورے ملک کو تاحال لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس موسم میں سب سے بڑا حملہ نزلہ(فلو)، زکام(کولڈ) اور سانس کی بیماریوں کا ہوتا ہے۔ مختلف طرح کے وائرس کے لیے یہ ’’اچھا‘‘ موسم ہوتا ہے اور یہ مختلف طریقوں سے ایک سے دوسرے انسان میں داخل ہو کر وبائی بیماریاں پھیلاتے ہیں۔یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ خالی آنکھ انہیں دیکھ نہیں پاتی لہٰذا ان کی تفصیلات جاننے کے لیے ہمیں خوردبین جیسے آلات اور ماہرین پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔بہرحال ذرائع ابلاغ اور نصاب سے ملنے والی معلومات سے بیشتر افراد جانتے ہیں کہ وائرس طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ کئی بار یوں ہوتا ہے کہ صبح سویرے اٹھتے ہی آپ کا واسطہ اپنی بہتی ناک اور جسمانی درد سے پڑتا ہے…آپ کو زکام ہے یا نزلہ؟ اس سوال کا جواب پانے کے لیے ان دونوں کے مابین فرق جاننا اہم ہے۔ نزلے کی نسبت زکام نظامِ تنفس کا چھوٹا مرض ہے۔ زکام سے آپ چند دن برا محسوس کرتے ہیں، البتہ نزلے سے آپ چند دنوں تک خاصے بیمار رہتے ہیں۔ نزلے سے صحت کے سنجیدہ مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں جن میں نمونیا شامل ہے۔ زکام کی درجہ بدرجہ نمو کچھ یوں ہوتی ہے۔ عموماً آغاز گلے کی سوزش سے ہوتا ہے جو ایک یا دو دنوں میں دور ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ناک سے منسلک علامات ظاہر ہوتی ہیں جن میں ناک کا بہنا اور اس میں رکاوٹ شامل ہیں، چوتھے یا پانچویں دن کھانسی ہوسکتی ہے۔ زکام کی صورت میں بالغوں کی نسبت بچوں میں بخار ہونے کا امکان خاصا زیادہ ہوتا ہے۔ زکام میں ناک سے ابتدا میں پانی جیسا مواد بہتا ہے جو بعد میں سخت ہو جاتا ہے۔ زکام میں ہلکی تھکاوٹ بھی ہوتی ہے۔ نزلے کی علامات زکام سے نہ صرف شدید ہوتی ہیں بلکہ زیادہ تیزی سے لپیٹ میں لیتی ہیں۔ اس میں گلے کی سوزش، بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور ٹیسیں، ناک کی نالی میں رکاوٹ، شدید تھکاوٹ اور کھانسی شامل ہیں۔ سوائن فلو کی علامات میں قے اور اسہال بھی شامل ہیں۔ نزلے کی بیشتر علامات دو سے پانچ دنوں میں درجہ بدرجہ شدید ہوتی ہیں لیکن عموماً ایک ہفتے سے کم وقت میں ان میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ پیچیدگی کی صورت میں بالخصوص بچوں اور بوڑھوں کو نمونیا ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کونسبتاً جلدہوتا ہے۔ نزلہ اور زکام دونوں کے وائرس بیمار فرد کے نظام تنفس سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے قطروں میں باہر نکلتے ہیں۔یہ دوسرے فرد کے جسم میں ناک کی بلغمی جھلی، آنکھوں اورمنہ سے داخل ہوتے ہیں۔ آپ جب بھی اپنا ہاتھ اس مقام پر لگاتے ہیں جہاں بیمار فرد نے اپنے وائرس چھوڑے ہوں تو یہ آپ کو لگ جاتے ہیں اور پھر آپ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہاتھوں کو صاف رکھنا بہت اہم ہے۔ ان کی منتقلی کو روکنے کے لیے یہ جاننا بھی اہم ہے یہ کتنی دیر زندہ رہتے ہیں۔ ہم روزانہ بہت سی ایسی چیزوں کو چھوتے ہیں جن پر وائرس پائے جاتے ہیں۔ یہ موبائل فون، دروازے کا ہینڈل یا کرسی پر ہو سکتے ہیں۔ یہ فضا میں کسی کی سانسوں سے نکل کر آپ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ وائرس باہر کتنی دیر زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس کا انحصار بنیادی طور پر تین عوامل پر ہوتا ہے؛ وائرس کس قسم کے ہیں، وہ کس جگہ یا چیز پر ہیں اور ان کے اردگرد کا ماحول کیسا ہے، مثلاً وہ گرم ہے، سرد ہے، نمدا ر ہے یا سورج کی تمازت والا ہے۔ زکام کے وائرس: زکام پیدا کرنے والے وائرس مختلف طرح کے ہوتے ہیں۔ یہ وائرس بعض اوقات کسی عمارت میں یعنی اِن ڈور ایک ہفتے سے زیادہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ عام طور پر وائرس بے مسام چیزوںپر، جن میں سے پانی نہیں گزرتا، زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں۔ ان میں سٹین لس سٹیل اور پلاسٹک شامل ہیں۔ مساموں والی چیزوں مثلاً دھاگے سے بنی چیزوں پر ان کی زندگی نسبتاً مختصر ہوتی ہے۔ کسی سطح پر زکام کے وائرس اگرچہ کئی دنوں تک زندہ رہ سکتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ان کی بیمار کرنے کی صلاحیت تیزی سے کم ہوتی ہے۔ یہ عموماً 24 گھنٹے سے زیادہ نہیں رہ پاتے۔ زکام پیدا کرنے والے زیادہ تر وائرس ہاتھوں پر مختصر وقت کے لیے زندہ رہتے ہیں۔ بعضوں کی زندگی تو چند منٹ ہوتی ہے البتہ رینووائرس جو عام زکام کا سبب بنتے ہیں، ایک گھنٹے بعد بھی ہاتھوں کے ذریعے انفیکشن کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ زکام پیدا کرنے والا ایک اور سِن سِشول وائرس یا آر ایس وی بچوں کو شدید بیمار کرنے کی استعداد رکھتا ہے اور یہ باورچی خانے کے تختوں اور دروازوں کے ہینڈل وغیرہ پر چھ گھنٹے تک زندہ رہ سکتاہے۔ یہ کپڑوں پر 30 سے 45 منٹ اور جِلد پر 20 منٹ تک زندہ رہ سکتا ہے۔ نزلہ کے وائرس: ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہونے اور انفیکشن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے نزلہ یا فلو کے وائرس سخت سطح پر 24 گھنٹے زندہ رہ سکتے ہیں۔ انفیکشن پھیلانے والے فلو وائرس بافتوں پر صرف 15 منٹ زندہ رہ سکتے ہیں۔ فضا میں معلق ننھے منے قطروں میں یہ کئی گھنٹے زندہ رہ سکتے ہیں، جب درجۂ حرارت کم ہوتا ہے تو فضا میں ان کی بقا طویل ہو جاتی ہے۔ بچوں میں کروپ کھانسی، جس میں کھانسی اور سانس لینے کے ساتھ آواز آتی ہے، کا سبب بننے والا پارین فلوئنزا وائرس سخت سطح پر 10 گھنٹے اور نرم سطح پر چار گھنٹے زندہ رہ سکتے ہیں۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں