1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

تہاڈا پاکستان چھڈ دتا، ہن کاہدا فساد اے؟

Discussion in 'حالاتِ حاضرہ' started by راشد احمد, Aug 15, 2011.

  1. راشد احمد
    Offline

    راشد احمد ممبر

    Joined:
    Jan 5, 2009
    Messages:
    2,457
    Likes Received:
    15
    تحریر صفدر عباس سید
    اپنوں سے دور پردیس میں دکھ سکھ کی کہانیاں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ کبھی کوئی کامیابی دستک دیتی ہے تو اردگرد کوئی ایسا چہرہ نہیں ہوتا جس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیکھ سکیں۔ غم اور ناکامی کا سامنا ہو تو کوئی مہربان آواز سنائی نہیں دیتی جو جینے کا حوصلہ دے سکے، ہمت دلا سکے۔

    لیکن شاید دکھوں کی کہانی تو سب سے الگ ہے خاص طور سے جب کوئی اپنا بچھڑ جائے۔۔۔ ہمیشہ کیلئے۔۔۔ کوئی ایسا مہربان جدا ہو جائے جس کی مہربان دعائیں ہجرت کے سفر کی دھوپ میں سر پر سایہ کرتی ہیں۔
    یہاں لندن میں خبر تو ملی ہے مجھے اپنے ماموں نذیر حسین کے وفات پا جانے کی۔ لیکن میں ایک لمبا سفر طے کرتا ہوا ساؤتھ ہال کے علاقے میں درشن سنگھ کے پاس کیسے آ گیا ہوں اور پھر مجھ سے زیادہ آنسو بوڑھے درشن سنگھ کی داڑھی کو بھگو رہے ہیں۔ درشن سنگھ جو اب آسانی سے چل پھر بھی نہیں سکتا۔ بوڑھے درشن سنگھ کی نوجوان پوتی وقفے وقفے سے کمرے میں آتی ہے اور حیرت سے اسے روتا دیکھتی ہے۔ سمجھ مجھے بھی نہیں آتا۔۔۔ یہ دکھ میرا ہے یا بوڑھے درشن سنگھ کا؟؟
    اور ہاں!! یہ کہانی بھی درشن سنگھ کی ہے یا میری؟
    آج سے تقریباً گیارہ سال پہلے درشن سنگھ سے میری پہلی ملاقات بھی عجیب تھی۔ لندن میں آپ کو سکھ اتنی تعداد میں د کھائی دیتے ہیں کہ شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں سکھ نہ پائے جاتے ہوں۔ یہی حال اب دیگر ایشیائی ممالک کے لوگوں کا بھی ہے۔ کئی علاقے تو ایسے ہیں جہاں گورے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔
    پُتر ذرا ہتھ پھڑائیں (بیٹا ذرا ہاتھ پکڑانا) ٹرین پر سوار ہونے کیلئے اس نے مجھے مدد کو پکارا۔ اسے چلنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ ہمارا سفر شروع ہوا۔ شاید یہ کہانی وہیں ختم ہو جاتی اگر بوڑھا سردار سلسلہ کلام آگے نہ بڑھاتا۔ لیکن کہانیاں تو شاید اپنے کرداروں کی تلاش میں رہتی ہیں اور کچھ کہانیاں تو اتنی عجیب ہوتی ہیں کہ یقین ہی نہیں آتا۔
    سفر کے دوران بوڑھے سردار نے پیار سے پوچھا ’’کتھوں دا ایں؟‘‘ (کہاں سے ہو؟)
    سردار جی! پاکستان! پنجاب توں! میں نے جواب دیا۔
    کس علاقے توں؟ اس نے پھر پنجابی زبان میں سوال کیا۔
    سردار جی۔ میرا گھر ملتان ہے باقی رشتہ دار لاہور تے ساہیوال رہندے نیءں!
    منٹگمری! بوڑھے سردار نے گویا میری تصحیح کی۔
    ہاں جی منٹگمری! میں نے کہا۔
    منٹگمری وچ تیرا کون رہندا اے؟ (منٹگمری میں تمہارا کون رہتا ہے؟)
    اس نے اگلا سوال کر دیا۔
    سردار جی منٹگمری دے نال اک شہر ہے چھوٹا جنا چیچہ وطنی۔ اوہدے نال اک پنڈ اے۔ اس پنڈ وچ میرے مامے رہندے نیءں!
    (سردار جی منٹگمری کے ساتھ ایک شہر ہے چھوٹا سا چیچہ وطنی۔ اور اس کے ساتھ ایک گاؤں ہے۔ اس گاؤں میں میرے ماموں رہتے ہیں۔)
    میں نے اپنی طرف سے بوڑھے سردار کو مطمئن کرنے کیلئے پورا پتہ دیا۔
    اچھا! اس نے قدرے خوش ہو کر کہا۔ کیہڑا پنڈ اے؟ (کونسا گاؤں ہے؟)
    مجھے خیال ہوا کہ بوڑھا سردار ضرور کسی خاص وجہ سے یہ سب پوچھ رہا ہے۔ میں نے جواباً کہا سردار جی چک نمبر 116 (چک نمبر ایک سو سولہ) اور اس کے بعد میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب سردار نے کہا ’’اوئے توں کسووال والے چک نمبر ایک سو سولہ بٹا بارہ ایل دا ایں؟‘‘
    یہ وہ مکمل ایڈریس تھا جس کی وجہ سے ہمارے ہاں چک پہچانے جاتے ہیں۔ انگریزوں کے دور حکومت میں نہری پانی کے نظام اور دیہاتوں میں تقسیم کرنے کی غرض سے یہ نمبر الاٹ کیے گئے تھے۔
    سردار جی! تسی کس طرح پہچاندے او میرے پنڈ نوں؟
    (آپ کس طرح پہچانتے ہیں میرے گاؤں کو) میں نے شدید حیرت سے پوچھا!
    پُترا میں وی اوس پنڈ دا آں (بیٹا میں بھی اس گاؤں کا ہوں)۔
    مجھے اس اتفاق کی ابھی سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ بوڑھے سردار نے پوچھا ’’تیرے مامے دا کی ناں اے؟‘‘ (تیرے ماموں کا کیا نام ہے؟)
    جی نذیر حسین! میں نے فوراً کہا۔
    اوئے نجیر حسین تیرا ماما اے؟ (اوئے نذیر حسین تیرا ماموں ہے؟)
    بوڑھے سردار نے فرطِ جذبات سے مغلوب آواز میں کہا۔
    جی سردار جی! تسی جاندے او انہاں نوں؟ (آپ جانتے ہیں انہیں؟)
    اوئے او تے میرا یار سی نجیر حسین (وہ تو میرا دوست تھا نذیر حسین)
    اچھا! میں نے حیرت سے کہا۔
    بوڑھے سردار نے پھر پوچھا! او ہن کتھے ہے؟ (وہ اب کہاں ہے؟)
    سردار جی! ماما جی تے اسے پنڈ وچ رہندے نیءں (ماموں جی تو اسی گاؤں میں رہتے ہیں۔) میں نے جواب دیا۔
    پھر اس کے بعد سردار جی مجھ سے گاؤں کے بارے میں اور لوگوں کے بارے میں پوچھتے رہے اور میں جواب دیتا رہا۔ ہر جواب اور ہر سوال کے ساتھ حیرت ہماری ہم سفر رہی۔ بوڑھے سردار نے اپنا نام بتایا درشن سنگھ۔ پھر کہنے لگا سنگھ کہتے ہیں شیر کو! اور میں تیرے ماموں کو چڑانے کیلئے کہتا تھا ’’میں شیر آں‘‘ (میں شیر ہوں۔) اور وہ آگے سے کہتا تھا ’’میں شیر کو ڈرانے والا ہوں!‘‘
    ہم لوگ ایک ساتھ گاؤں کے سکول میں پڑھتے تھے۔ گھومتے تھے، پھرتے تھے، جوانی تھی، گاؤں کے لڑکے کبڈی کھیلا کرتے تھے۔ قریب کے گاؤں والوں کے ساتھ بھی ہمارے کبڈی کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ پھر جب ہم ایک ساتھ مل کر دوسرے گاؤں والوں کو مقابلے میں شکست دیتے تھے تو پورا گاؤں ہمیں خوشی سے کاندھے پر اٹھا کر گلے میں ہار پہنایا کرتا تھا۔ جب ہم شام کے وقت گاؤں کے درمیان والے کنویں سے پانی ڈول بھر بھر کر نکالتے تھے تو سارے لوگ قطار لگا کر اپنے برتن پانی سے بھرتے تھے۔ یہ بھی ایک طرح سے ہماری ہمت اور مقابلے کا امتحان ہوتا تھا اور پھر اچانک درشن سنگھ نے سوال کیا! پنڈا دا او کھوہ اجے وی ہے؟ (گاؤں کے درمیان میں جو کنواں تھا کیا اب بھی وہ وہاں موجود ہے؟)
    جی سردار جی! اجے وی ہے او کھوہ! پر ہن اوہدا پانی پین والا نہیں رہیا!
    (اب بھی ہے وہ کنواں!! لیکن اب اس کا پانی پینے والا نہیں رہا) میں جواب دیا۔
    جدوں فساد شروع ہوئے سی! اوس کھوہ تے میرے چاچے نوں قتل کیتا گیا سی! (جب فساد شروع ہوئے تھے! اسی کنویں پر میرے چچا کو قتل کیا گیا تھا۔)
    سردار درشن سنگھ کی آواز غم اور دکھ سے بھر آئی تھی!
    ہر طرف اچانک فساد ہو گئے۔ سارے رشتے ختم ہو گئے۔ سردار کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
    میں نے بوڑھے درشن سنگھ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔
    کچھ دیر بعد اچانک بولا ’’اس زمانے وچ اسی ڈردے نیءں سی کسے توں!!‘‘
    اماں توں ڈردے سی!! تیری نانی نوں اسی سارے وڈی اماں کہندے سی!! او سی وی وڈی اماں، سارے پنڈ دی وڈی اماں! بڑا رعب سی اوہدا۔ تیرے مامے تے پنڈ دے دوجے یار بیلی ساہنوں سب توں بچا کے بارڈر تک چھڈن آئے سی۔
    (اس زمانے میں ہم ڈرتے نہیں تھے کسی سے۔ لیکن اماں سے ڈرتے تھے۔ تیری نانی کو ہم سب بڑی اماں کہتے تھے۔ وہ تھی بھی بڑی اماں۔ سارے گاؤں کی بڑی اماں۔ بڑا رعب تھا اس کا۔ تیرے ماموں اور دوسرے یار دوست ہمیں سب سے بچا کر بارڈر تک چھوڑنے آئے تھے۔)
    بوڑھا درشن سنگھ بولتا رہا۔ اس کی آواز جیسے صدیوں کا سفر طے کر رہی تھی۔ دھیرے دھیرے وہ بولتا رہا۔ آنسو بہتے رہے۔
    کچھ دیر بعد ساؤتھ ہال اسٹیشن آ چکا تھا۔ سب مسافروں کو جلدی جلدی اپنی منزل پر پہنچنا تھا۔ سب کے قدم تیز تیز اٹھ رہے تھے۔ درشن سنگھ اور میں اتنے آہستہ چل رہے تھے گویا صدیوں کے سفر کی تھکان طاری ہو گئی ہو اور ٹرین بچھڑے ہوؤں کو یکجا کر کے اگلی منزل کو روانہ ہو گئی تھی۔
    میں درشن سنگھ سے ملتا رہتا۔ وہ فون پر میرے ماموں سے بات بھی کرتا۔ دونوں دوست ایک دوسرے کی آواز سن کر بے حد خوش ہوتے۔ وہ دونوں بوڑھے جب باتیں کرتے تو یوں لگتا ان کے اندر وہی جوانی پھر سے لوٹ آئی ہو۔ دونوں دوست اپنی بچپن اور جوانی کی یادوں کو تازہ کرتے۔
    کچھ عرصہ پہلے ماموں بیمار ہو گئے۔ میں نے درشن سنگھ کو بتایا تو وہ بے چین ہو گیا۔ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے دونوں گزرے زمانوں کو یاد کرتے ہوئے روتے رہے۔
    پھر اچانک درشن سنگھ نے کہا! بھائی نجیر حسین! اک گل تے دس ایہی پاکستان توں کدی چنگی خبر کیوں نیءں آندی؟
    (بھائی نذیر حسین ایک بات تو بتاؤ۔ یہ پاکستان سے کبھی کوئی اچھی خبر کیوں نہیں آتی؟)
    ماموں نے کہا۔ کوئی گل نئیں۔ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    درشن سنگھ نے شرارت بھرے لہجے میں مجھ سے کہا۔ اوئے ہن تے خوش ہو جاؤ۔ ہن تے اسی نکل گئے آں۔ ہن تے اساں چھڈ دتا اے تہاڈے پاکستان نوں۔ ہن کاہدا فساد اے؟ ہن تسی آپس اچ ای لڑنا شروع کر دتا اے۔ ہن تے پیار نال رہنا سکھ لو۔

    ٹاپ سٹوری آن لائن
     
  2. ھارون رشید
    Offline

    ھارون رشید برادر Staff Member

    Joined:
    Oct 5, 2006
    Messages:
    131,687
    Likes Received:
    16,918
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: تہاڈا پاکستان چھڈ دتا، ہن کاہدا فساد اے؟

    بلکل درست کہا

    واقعی سوچنے والی بات ہے
     
  3. صدیقی
    Offline

    صدیقی مدیر جریدہ Staff Member

    Joined:
    Jul 29, 2011
    Messages:
    3,476
    Likes Received:
    190
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: تہاڈا پاکستان چھڈ دتا، ہن کاہدا فساد اے؟

    بالکل صحیح کہا آپ نے
     
  4. حریم خان
    Offline

    حریم خان مدیر جریدہ

    Joined:
    Oct 23, 2009
    Messages:
    20,724
    Likes Received:
    1,297
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: تہاڈا پاکستان چھڈ دتا، ہن کاہدا فساد اے؟

    قیام پاکستان کی تاریخ اپنے اندر بہت سی کہانیاں رکھتی ہے۔کچھ کہی گئیں اور کچھ ان کہی رہ گئیں۔۔
    ایک فکر انگیز تحریر کے لیے شکریہ۔۔۔
     
  5. شاہنوازعامر
    Offline

    شاہنوازعامر ممبر

    Joined:
    Mar 5, 2012
    Messages:
    400
    Likes Received:
    287
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: تہاڈا پاکستان چھڈ دتا، ہن کاہدا فساد اے؟

    :a165::a165:زبردست جی جواب نہیں
     
  6. ابو عباس
    Offline

    ابو عباس ممبر

    Joined:
    Mar 17, 2012
    Messages:
    18
    Likes Received:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: تہاڈا پاکستان چھڈ دتا، ہن کاہدا فساد اے؟

    تصویر کا ایک رخ ہی نہ دیکھیں‌ ، حریم خان صاحبہ نے درست کہا ہے ، بہت سی کہانیاں ان کہی رہ گئی ہیں ۔ اس پیارے ملک کی بنیادوں میں‌ ساڑھے چھ لاکھ شہیدوں کا لہو ہے شاید اسی لیے خدائے لم یزل ہماری ہر ہر قبیح حرکت پر پردہ ڈالے ہوئے ہیں ، ان ساڑھے چھ لاکھ شہیدوں کو مت بھولیئے ، ان ہزاروں خواتین کو مت بھولیں جنہیں کی عزتیں تار تار ہوئیں‌ ، سینکڑوں خواتین کو سکھوں نے اپنے گھروں میں زبردستی رکھا لیا تھا ۔ تاریخ کو مسخ نہ ہونے دیں ، اپنے بچوں‌ تک تلخ سچائیوں‌ کو پہنچنے دیں ۔
     
  7. شانی
    Offline

    شانی ممبر

    Joined:
    Feb 18, 2012
    Messages:
    3,129
    Likes Received:
    241
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: تہاڈا پاکستان چھڈ دتا، ہن کاہدا فساد اے؟

    بلکل جی میں اس سے اتفاق کرتا ھوں پاکستان کی تاریخ میں بہت ٹریجدی ہے جو لوگوں تک پہنچنی چاہیے
     
  8. شاہنوازعامر
    Offline

    شاہنوازعامر ممبر

    Joined:
    Mar 5, 2012
    Messages:
    400
    Likes Received:
    287
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: تہاڈا پاکستان چھڈ دتا، ہن کاہدا فساد اے؟

    بہتر ہے ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا لیکن ہم مسلمان ہے اسلام کے نام پر وطن حاصل کیا ہے پھر کیا ہوا وہ سب
     

Share This Page